پختونخوا میں سلاٹ گیمز سماجی اور معاشی اثرات
-
2025-04-02 18:29:58

پختونخوا میں سلاٹ گیمز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے سماجی اور معاشی مسائل کو جنم دیا ہے۔ یہ کھیل جو عام طور پر الیکٹرانک آلات یا آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کھیلے جاتے ہیں نوجوانوں کو تیزی سے اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف مالی نقصان کا سبب بنتی ہیں بلکہ ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق صوبے کے بڑے شہروں جیسے پشاور اور مردان میں سلاٹ گیمز کے مراکز کی تعداد میں غیر قانونی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ ان کھیلوں میں زیادہ تر نوجوان اور کم عمر بچے شامل ہوتے ہیں جو اپنی تعلیم اور مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
حکومت پختونخوا نے اس مسئلے کو کنٹرول کرنے کے لیے کچھ اقدامات اٹھائے ہیں جن میں گیمنگ سنٹرز کو بند کرنا اور آن لائن پلیٹ فارمز کی نگرانی شامل ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف قانونی پابندیاں کافی نہیں بلکہ عوامی شعور بیدار کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔
خاندانی نظام پر ان کھیلوں کے اثرات بھی گہرے ہیں۔ کئی گھرانوں میں مالی تنازعات پیدا ہو چکے ہیں جبکہ کچھ کیسز میں نوجوانوں نے قرض لے کر کھیلنے کی کوشش کی جو ان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنا۔ سماجی کارکنان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں مثبت مشغلوں کی طرف راغب کریں۔
پختونخوا کی ثقافت اور روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے علما نے بھی سلاٹ گیمز کو غیر اخلاقی اور اسلام کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیاں معاشرے میں بے راہ روی کو فروغ دیتی ہیں۔ مستقبل میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومتی اداروں سمیت سماجی تنظیموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔